بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں دینے کا نام بندگی ہے۔
Showing posts with label اسلام. Show all posts
Showing posts with label اسلام. Show all posts

Wednesday, 28 March 2012

مساوات

مساوات

مساوات کا مفہوم

مساوات کے لفظی معنی برابری کے ہےں لیکن اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں نکلتا کہ تمام افراد کو اعلی اور ادنی خدمات کا ایک ہی معاوضہ دیا جائے بلکہ شریعت کے حکم کے مطابق لوگوں سے موقع کے حصول میں مساوات بڑھتی جائے۔

مساوات کی اقسام

مساوات کی دو اقسام قابلَ غور ہیں:
(۱) قانونی مساوات                                   (۲) معاشرتی مساوات

(۱) قانونی مساوات

قانونی مساوات سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص مفلس ہو یا خوشحال، کالا ہو یا گورا، عالم ہو یا جاہل قانون سے بالا تر نہیں۔ اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو اس کی حیثیت اور دولت کے بناءپر کوئی رعایت نہ برتی جائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبے مےں ارشاد فرمایا ہی کہ:
کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر سوائے تقی کے۔

(۲) معاشرتی مساوات

معاشرتی مساوات کا مفہوم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کسی کو اولیت حاصل نہیں ہے بزرگی اور عظمت کا معیار صرف تقوی ہے۔
بے شک خدا کے نزدیک سب سے زیادہ تم میں عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔
بقول شاعر
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اسوة رسول اور مساوات
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں سب برابر تھے امیر، غریب، آقا غلام، صغیر و کبیر سب برابر تھے۔ عربی اور عجمی میں کوئی تفریق نہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ایسی پچاسوں مثالیں مل جائیں گی جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا عمل ہر موقع پر مساویانہ رہا۔ حضور کا یہ طریقہ تھا کہ مجلس میں کوئی چیز تقسیم فرماتے تو دائیں جانب سے شروع کرتے بعض اوقات یہ بھی ہوتا کہ دائیں جانب عام لوگ ہوتے اور بائیں جانب معززین بیٹھتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا طریقہ کبھی بھی نہ بدلتے۔
حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مساویانہ رویہ کی مثال
غزوہ بدر میں سواریاں کم تھیں۔ تین افراد کے حصے میں ایک سواری آئی لہذا صحابی باری باری اترتے۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ صحابہ رضہ حاضر ہوتے اور خواہش ظاہر کرتے کہ ہم آپ کے بدلے پیدل چل لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے:نہ تم مجھ سے زیادہ پیادہ پا نہ میں تم سے کم ثواب کا محتاج ہوں۔
غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بھی قیدی بن کر آئے۔ چونکہ وہ آپ سے قرابت داری رکھتے تھے اس لئے صحابہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے فدیے کی رقم معاف کردی جائے۔ لیکن آپ نے اس بات کو پسند نہ فرمایا اور حکم دیا کہ ایک درہم بھی معاف نہ کرو۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری خطبہ دیا اس میں معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے۔
قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے الزام میں گرفتار ہوئی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باتھ کاٹ ڈالنے کا حکم دے دیا۔یہ فیصلہ لوگوں کو گوارہ نہ تھا ان کا خیال تھا کہ اس طرح خاندان کی بدنامی ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہ رضہ کو جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا محبت کرتے تھے سفارش کے لئے بھیجا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
اسامہ تم کیا حضورِ خداوندی میں سفارش کرتے ہو۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا:
پچھلی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں جب ان میں کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو نظر انداز کردیتے اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اس کی سزا دیتے۔ خدا کی قسم اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ بھی کاٹ دئیے جاتے۔
  

Thursday, 15 March 2012

حقوق العباد

حقوق العباد

حقوق سے مراد:

حقوق جمع ہے حق کی جس کا مطلب ہے لازمی اور ضروری۔ حقوق دو قسموں کے ہوتے ہیں:
(۱) حقوق اللہ                                           (۲) حقوق العباد

حقوق اللہ

اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کے ذریعے اپنے سرے حقوق بندوں کو بتادیئے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور تمام وہ کام کرو جس کا اللہ اور رسول نے حکم دیا۔

حقوق العباد

عباد جمع ہے عبد کی جس سے مراد ہے انسان یا بندہ۔ اس طرح حقوق العباد کا مطلب ہے بندوں کے لئے ضروری یعنی حقوق۔ حقوق العباد میں دنیا کے ہر مذہب، ہر ذات و نسل، ہر درجے اور ہر حیثیت کے انسانوں کے حقوق آجاتے ہیں۔ اگر ہم عزیزوں کے حقوق ادا کریں تو اس کے ساتھ غیروں کے حقوق بھی ادا کریں۔ غلام اگر مالک کی خدمت کرے تو مالک بھی غلام کا پورا پورا خیال رکھے۔ والدین اگر اولاد کے لئے اپنی زندگی کی ہر آسائش ترک کردیں تو اولاد بھی ان کی خدمت اور عزت میں کمی نہ کرے یہی اسلام کی تعلیم ہے پوری انسانیت کے لئے ۔ حقوق العباد میں مختلف حیثیت اور درجات کے لوگوں کے حقوق آجاتے ہیں۔

تمام انسانوں کے لئے حقوق

جب ہم انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہےں تو اس میں مخصوص قسم کے لوگوں کے حقوق نہیں آتے بلکہ پوری انسانیت ہماری نظر کرم اور توجہ کی منتظر ہوتی ہے۔ اسلام نے پوری انسانیت کے حقوق ادا کرنے پر اس قدر زور دیا ہے کہ کسی بھی مذہب میں کچھ نہیں کہا گیا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان قوم کو بہترین امت کہا گیا ہے۔
مسلمان اس لئے سب سے بہترین امت ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو نیکی کی ہدایت دیتے ہیں اور برائی سے روکتی ہیں۔
میں اپنے حقوق کو معاف کردوں گا مگر بندوں کے حقوق کی معافی نہیں دے سکتا۔

والدین کے حقوق

قرآن پاک نے والدین کے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ:
ماں باپ کی خدمت گزاری اچھی طرح کرو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ جوکچھ اپنے مال سے خرچ کروگے اس میں والدین کا بھی حق ہے۔
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
ماں باپ کا نافرمان جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی والدین نے ساتھ عزت و احترام محبت اور خدمت کی سخت تاکید کی تھی۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:   تمہاری جنت تمہارے والدین ہیں اگر وہ خوش ہیں تو تم جنت میں جاو گے۔

اولاد کے حقوق

ماں باپ جس طرح اولاد کی پرورش، خدمت اور تعلیم و تربیت کرتے ہیں وہ اولاد کا حق ہے۔ اولاد کی بہترین پرورش اور تعلیم و تربیت ماں باپ کا فرض بن جاتا ہے۔ ایک حدیث اس بات کو اس طرح ثابت کرتی ہے۔
باپ جو کچھ اپنی اولاد کو دیتا ہے ان میں سب سے بہتر عطیہ اچھی تعلیم و تربیت ہے۔

عزیزوں اور قرابت داروںکے حقوق

ہر انسان کے عزیز و اقارب ضرور ہوتے ہیں اور زندگی بھر ان سے تعلق قائم رہتا ہے۔ اللہ نے ان کے بہت سے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں:
جوکچھ اپنے مال میں سے خرچ کروگے اس میں والدین کا بھی حق ہے اور قرابت داروں کا بھی۔
حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عزیزوں اور رشتہ دارون کے حقوق مقرر کردئیے اور فرمایا:
رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
اس طرح یہ بات ظاہر ہوگئی کہ قرآن مجید اور احادیث نے عزیزوں اور رشتہ داروں کے بہت سے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں۔ یعنی ان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، غریب رشتہ داروں کی مدد کرنا اور اسی طرح کے بہت سے ایسے کام کرنا جن سے رشتہ داروں سے تعلقات خوشگوار قائم رہیں ہمارے فرائض میں شامل ہیں۔

ہمسایوں کے حقوق

ہمسائے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے گھر کے بالکل نزدیک ہوتے ہیں اور عزیز نہیں ہیں۔ دوسرے وہ جو عزیز بھی ہوں اور تیسرے وہ جو ہمارے گھر سے ذرا دور رہتے ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ زور ان ہمسایوں پر دیا ہے جو گھر سے بالکل نزدیک رہتے ہےں۔ ان کا ہم پر حق سب سے زیادہ ہے اور وہ ہماری توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو ہمارے ہمسایوں کو تکلیف پہنچائے۔ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم ہمسایوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ:
اپنے گھر کی دیواریں اتنی اونچی نہ کرو کہ ہمسایوں کی دھوپ اور روشنی رک جائے۔
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بار بار ہمسایوں کے حقوق اس انداز میں مقرر فرمائے کہ یہ ڈر ہوا کہ کہیں وراثت میں ان کا حق نہ مل جائے۔ لہذا ہمیں ہمسایوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس سے ہمسایوں کے حقوق کی مکمل وضاحت ہوجاتی ہے:
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ خود پیٹ بھر کے کھالے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے۔

استادوں کے حقوق

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:               مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
اسلام نے تعلیم حاصل کرنے پر بہت زور دیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پہلا پیغام ملاتھا وہ لفظ پڑھو سے ملا تھا۔ علم انسان کے لئے اس قدر اہم چیز ہے کہ ماں کی گود سے لے کر قبر تک جاری رہتا ہے اور ہرشخص یعنی مردوعورت، جوان و بوڑھے پر ایک فرض کی طرح عائد کیا گیا ہے۔
جب علم کی اس قدر اہمیت ہے تو معلیم کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں ہوسکتی۔ مختصراً یہ کہ والدین جو ہماری پیدائش اور تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اور معلم جو ہماری نشونما کے ذمہ دار ہوتے ہیں تو والدین کی طرح سے ہی معلم بھی عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس سے معلم اور طالبعلم کے درمیان رشتہ اور حیثیت کی اچھی طرح وضاحت ہوتی ہے:
معلم کی حیثیت بارش جیسی ہوتی ہے اور طالبعلم کی حیثیت زمین جیسی جو بارش کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جو زمین بارش کی فیض و برکات سے سرسبزو شاداب ہوجاتی ہے اس کا مطلب ہوا کہ زمین نے پانی کو اپنے اندر جذب کرلیااور جو زمین بارش کے پانی کو ضائع کردیتی ہے وہ بنجر ہوجاتی ہے۔ اسی طرح طالبعلم علم کی بارش کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے وہ خوب سیراب ہوجاتا ہے۔ اور اس کا استاد اسکو آگے جاتا ہوا دیکھ کر حسد نہیں کرتابلکہ خوش ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے زمانے میں شاگرداستاد کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنالیتے تھے۔

غلاموں، ناداروں، مسکینوں اور مفلسوں کے حقوق

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مظلوم طبقے کے حقوق اچھی طرح سمجھائے، مقرر کیے اور ادا کئے۔ یہ طبقہ اسلام سے قبل بڑی ذلت آمیز زندگی گزارتا تھا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں ان سے کے حقوق مقرر کئے:
بیماروں کی عبادت کرنا ان کا حق ہے، یتیموں کی کفالت کرنا ان کا حق ہے۔

حرفِ آخر

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کی بہتری اور بقاءکے لئے اپنے اعمال، کردار اور اخلاق و اقوال سے ایسا نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لئے سب کی رہبری کرتا رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتِ عالم تھے۔ یہی وجہ تھی کوئی بھی طبقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور حسن سلوک سے محروم نہ تھا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے خود حقوق ادا کرتے اور پھر دوسروں کو تاکید فرماتے تھے۔


نماز

نماز

نماز کے لغوی معنی

نماز کے لغوی معنی صلوة ہیں جس کا اردو میں مطلب دعا کرنا اور التجا کرنا ہے۔

نماز کے شرعی معنی

شریعت کی اصطلاح میں نماز عبادت کا ایک خاص طریقہ ہے جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بتایا تھا۔ اسلامی عبادت میں یہ سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے جو ہر جوان اور بوڑھے، مرد اور عورت پر فرض ہے۔

نماز کی تاریخ

توحید کے بعد نماز اللہ کا وہ پہلا حکم ہے جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے ادا ہوا۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ:
اے لحاف میں لپٹے ہوئے آٹھ اور ہوشیار ہوکر اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔
شروع شروع میں نماز مختصر اور کم تھی۔ معراج پر تشریف لے جانے کے بعد پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوئیں اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی پیغمبر ایسا نہیں کہ جس نے نماز کی تعلیم نہ دی ہو۔ حضرت ابراہیم نے بھی اپنی نسل کے لئے یہ دعا فرمائی:
اے میرے پروردگار مجھ اور اور میری نسل کو نماز قائم کرنے والا بنا۔
تمام امتیں اپنے پیغمبروں کی بتائی ہوئی نمازیں ادا کرتی تھیں۔ مگر آہستہ آہستہ ان میں بہت سے غلط اور مشرکانہ باتیں شامل ہوگئی۔ ارشادِ ربانی ہے کہ: خانہ کعبہ کے نزدیک ان کی نماز کیا ہوتی وہ سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹتے۔

نماز کی اہمیت قرآن کی نظر میں

تماز ایسی عبادت ہے جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے اور تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ نماز کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ:
نماز کی حفاظت کرو۔
متقی وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ نماز ادا کرتے ہیں۔
اور نماز پڑھا کرو، زکوة دیا کرو اور خدا کے آگے جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاو۔

نماز کی اہمیت حدیث کی روشنی میں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز کی فرضیت اور فضیلت و اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ باربار نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے اور نماز چھوڑنے پر سخت عذاب کی خبر سنائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نماز مومن کی معراج اور دین کا ستون ہے۔
نماز جنت کی کنجی ہے۔
جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا۔
قیامت میں سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا۔
دین کی اصل بنیاد خدا اور رسول کے آگے سرجھکادینا ہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو اس قدر اہم بتایا ہی کہ نماز ہی مسلمانوں اور کافروں میں فرق ظاہر کرتی ہے۔ نماز تمام عبادتوں میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ قبر اور قیامت میں پہلا سوال نماز کا ہوگا اور اور یہ پہلا سوال صحیح ہوگیا تو باقی سوالات بھی آسان ہوجائیں گے۔ نماز سے انسان نظم و ضبط کا پابند ہوجاتا ہے اور نماز ہی آخرت کی کامیابی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہی کہ:
نماز ٹھیک نکلی تو آخرت میں کامیاب و بامراد ہوگا ورنہ نادم ہوگا اور خسارے میں رہے گا۔
ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک انسان ہوش و حواس میں قائم رہیں نماز کی پابندی ضروری ہے۔ نماز کی اہیت یہ بھی ہے کہ نماز پڑھتے وقت نمازی کا سارا جسم، دل و دماغ، سب نماز مےں مصروف ہوجاتے ہیں۔

نماز کی فرضیت

نماز کی فرضیت اس بات سے ظاہر ہے کہ قرآن کے آغاز اور نزول میں فرض عائد کیا گیا تھا۔ نہ صرف حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر بلکہ دوسرے انبیاءکی امتوں پر بھی یہ فرض کی گئی تھی۔ قرآن میں نماز کی فرضیت کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور اس کا نہ پڑھنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سب سے پہلا حکم ملا وہ نماز ہی کا تھا۔ اور آخرت میں سب سے پہلا سوال بھی نماز ہی کا ہوگا۔ نماز جونکہ دینی تربیت کا اہم حصہ ہے اس لئے تمام انبیاءبھی اپنی امتوں کو بار بار نماز کی تاکید کرتے رہے۔ اللہ تعالی نماز کو دنیا و آخرت کی فلاح کا ذریعہ بتایا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے کہ:
جب عذاب کے فرشتے دوزخیوں سے عذاب پانے کی وجہ پوچھیں گے تو وہ جہنم میں پھینکے جانے کی وجہ یہ بتائیں گے کہ ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔

Monday, 30 January 2012

سیرت النبیﷺ

عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم غیروں کی نظر میں

غیر مسلم دانشوروں اور مفکروں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف و خراج عقیدت ۔

میکائل ہارٹ :

دنیائے سب سے زیادہ ذی اثر شخصیات کی لسٹ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے رکھنا بعض لوگوں کو حیرت میں ڈال دے گا اور وہ معترض ہوں گے لیکن تاریخ میں واحد یہ شخصیت گرامی ہیں کہ مذہبی اور دنیاوی طور پر انتہائی کامیاب ہوئے ۔
معمولی لوگوں میں پیدا ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک کی بنیاد رکھی اور اسے رائج کیا ۔ اور انتہائی ذی اثر شخصیات میں سے نمایاں سیاسی لیڈر بنے ۔ جس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکمراں بنے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عزیزوں کو دوسروں پر ترجیح نہیں دی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو دین الٰہی کی بالادستی چاہتے تھے ۔

ای ۔ ڈی ۔ منگھم :

محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے عظیم نہیں تھے کہ وہ امن کے علمبردار تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سب سے کامیاب ترین پیغمبر تھے ۔ جتنے اذہان و قلوب آپ نے مسخر کئے کسی اور نے نہیں کئے ۔

لین پول :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بے مثل صلاحیت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو متاثر کر سکتے تھے اس بے پناہ صلاحیت کا استعمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خیر کی سربلندی کے لیے کیا ۔

ایل ۔ وی ۔ واگلیزی :

تعصب اور لاعلمی کی وجہ سے اگر دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مذہبی راہنما قبول کرنے سے کترائی ہے تو میں بھی پورے یقین سے دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نہ ایک دن سب سے بڑے سماجی مصلح کی حیثیت سے دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔

اے ۔ جی ۔ لیونارڈ :

جسمانی اور اخلاقی پاکیزگی کے نقطہ نظر سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر نوع سے ایک جوہر تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی ، ذہنی اور روحانی پاکیزگی کی تعلیم فرماتے تھے آپ کی تعلیمات رہتی دنیا تک کے لیے مشعل راہ ہیں ۔ جس سرعت سے اسلام کی فتح ہوئی وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاءنہایت اعلیٰ درجہ کے انسان رہے ہوں گے مذہب کو کامیابی اس کے راہنماؤں کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔

پروفیسر گسب :

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا تمام نسل انسانی پر بڑا احسان ہے یہ حقیقت ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑے اور عظیم انسان تھے ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو خدائی کا دعویٰ کر دیتا ۔

گبن یورپی مؤرخ :

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے چاروں خلیفوں کے اطوار یکساں صاف اور ضرب المثل تھے ۔ عیسائی اس بات کو یاد رکھیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں میں ایسا دینی جذبہ پیدا کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے ابتدائی پیروکاروں میں بھی یہ جذبہ تلاش کرنا بے سود ہے ۔
اس کی بدولت نصف صدی سے کم عرصہ میں بھی اسلام بہت سی عالیشان اور سرسبز سلطنتوں پر غالب آگیا ۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا جا رہا تھا تو ان کے پیروکار انہیں بچانے کی بجائے بھاگ گئے اور اس کے برعکس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار اپنے مظلوم پیغمبر کے گردوپیش رہے اور ان کے بچاؤ کے لیے اپنی جانیں ، گھر بار تک خطرہ میں ڈال کر انہیں دشمنوں پر غالب کردیا ۔

ڈاکٹر گستاؤلی بان فرانسی :

جس وقت ہم فتوحات عرب پر نظر ڈالیں گے اور ان کی کامیابی کے اسباب کو ابھار کر دکھائیں گے تو معلوم ہو گا کہ اشاعت مذہب میں تلوار سے مطلق کام نہیں لیا گیا ۔ کیونکہ مسلمان ہمیشہ مفتوح اقوام کو اپنے مذہب کی پابندی میں آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔ اگر اقوام نے دین اسلام کو قبول کیا تو اس وجہ سے کہ اپنے قدیم حاکموں کی نسبت ان مسلمانوں کے حاکم میں انصاف پایا گیا ۔ اور ان کے مذہب کو اپنے مذہب سے زیادہ سچا اور سادہ پایا ۔

جون ڈیون پورٹ :

یہ خیال کہ قرآنی مذہب تلوار کے ذریعے سے شائع ہوا تھا بالکل غلط ہے کیونکہ ہر ایک منصف مزاج اور غیر متعصب یہ معلوم کر سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب نے انسان کی قربانی اور خون ریزی کی جگہ نماز و زکوٰۃ قائم کی ، ہمیشہ کے جھگڑوں کی جگہ باہمی اخلاق و محبت کی بنیاد ڈالی ۔ حقیقت میں یہ مذہب اہل مشرق کے لیے سرتاپا برکت تھا ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس قدر خون ریزی نہیں کی جس قدر موسیٰ علیہ السلام کو بت پرستی کی بیخ کنی کے لیے کرنی پڑی ۔

مہاتما گاندھی :

اسلام دین باطل نہیں ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئیے تا کہ میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں ، میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا ۔ بلکہ اس کی اشاعت کا ذمہ دار رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان ، ایثار ، اور اوصاف حمیدہ تھے ۔ ان اوصاف حمیدہ نے لوگوں کے دلوں میں محبت ، اخلاق ، بھائی چارہ کا عظیم جذبہ بیدار کر دیا ۔ یورپی اقوام جنوبی افریقہ میں اسلام کو سرعت کے ساتھ پھیلتا دیکھ کر خوف زدہ ہیں ۔

آکسفورڈ عالم :

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح نگاروں کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس کا ختم ہونا ناممکن ہے لیکن اس کے سوانح نگاروں میں جگہ پانا قابل فخر چیز ہے ۔

مسٹری کونٹ ہنری :

عقل حیران ہے کہ قرآن حکیم جیسا کلام ایسے شخص کی زبان سے کیونکر ادا ہوا جو بالکل امی تھا ۔ ( e ) تمام مشرق نے اقرار کر لیا ہے کہ نوع انسانی لفظ و معنی ہر لحاظ سے اس کی نذیر پیش کرنے سے عاجز ہے ۔

پادری دال ریلین بی ڈی :

مسلمانوں کا مذہب جو قرآن کا مذہب ہے ایک امن اور سلامتی کا مذہب ہے ۔

لین پول :

روئے زمین پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا دور اندیش اور صاحب بصیرت انسان کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا ۔

جارج برنارڈشا :

ازمنہ وسطیٰ میں عیسائی راہبوں نے جہالت و تعصب کی وجہ سے اسلام کی نہایت بھیانک تصویر پیش کی ۔ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے خلاف منظم تحریک چلائی یہ سب راہب اور منصف غلط کار تھے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ تھے ۔
میری یہ خواہش ہے کہ اس صدی کے آخر تک برطانویوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مجموعی طور پر اپنا لینی چاہئیں انسانی زندگی کے حوالے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے افکار و نظریات سے احتراز ممکن نہیں ۔

پنولین :

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے پندرہ برس کے عرصہ میں عرب کے لوگوں نے بتوں اور جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کر لی مٹی کے بت اور دیوتا مٹی میں ملا دئیے ۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کے سبب ہوا ۔

جی ایم دیکارٹ :

انسانی تاریخ میں کسی قوم کا نامہ اعمال اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اتنا سیاہ نہیں جتنا کہ یہودیوں کا ہے مغربی مؤرخ اور عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہودیوں پر مظالم کا پروپیگنڈہ کرتے نہیں تھکتے حالانکہ اس پراپیگنڈہ میں نہ صداقت ہے نہ غیر جانبداری ۔
یہودیوں نے اپنی فطرت کے مطابق سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف افواہوں کا بازار گرم کیا اس کے بعد مہاجر اور انصار میں تفرقے اور عناد کا بیج بونے کی کوشش کی مگر دنیا کا کوئی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ایسے معاشرے اور سماج کی بنیاد نہ رکھ سکا ۔ جو مثالی ہو اور آنے والے وقت کے لیے مشعل راہ ہو ۔

واشنگٹن ارونک :

محمد صلی اللہ علیہ وسلم عظیم سپہ سالارا اور شجاع تھے اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن اپنے دین کو فروغ دینا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکمران بنے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عزیزوں کو دوسروں پر ترجیح نہیں دی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو دین الٰہی کی بالادستی چاہتے تھے ۔

ڈی ۔ ایس مارکولیوتھ :

جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ان کا مشن ادھورا نہیں تھا بلکہ اپنے روحانی اور سیاسی مشن کی تکمیل انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کر لی تھی ۔

بی سمتھ :

کسی مذہبی راہنما اور مذہب کی حقیقت کا اندازہ اس کے نام لیواؤں اور پیروکاروں کے اعمال سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ 632 ءمیں خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے زمانے میں یروشلم فتح ہوا مسلمانوں کا اس پر قبضہ ہوا یروشلم میں کسی گھر یا مکان کو نقصان نہیں پہنچایا گیا ۔ سوائے
میدان کار زار کے ، اور کہیں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا گیا ۔

آرڈبلیو سٹو ہارٹ :

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے خصوصاً دن میں پانچ بار ، فیض ، دہلی ، حجاز ، ایران ، کابل ، مصر ، شام.... ( الغرض پوری دنیا ) میں جب دنیا کے ہر خطے میں مسلمانوں کو نماز پڑھتے دیکھیں تو تسلیم کر لیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سچا ہے زندہ ہے اور زندہ رہے گا

پنڈت ہری چنداختر :

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کسی نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں حق کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دریتیم
اور بندوں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
کہہ دیا لاتقنطوا اختر کسی نے کان میں
آدمیت کا عرض ساماں مہیا کر دیا
اور دل کو سر بسر محو تمنا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا


سیرت النبیﷺ سوالاً جواباً


حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان
سوال:حضرت محمدﷺ    کا سلسلہ نسب کن پیغمبر سے جاکر ملتا ہے؟
جواب:حضرت ابراہیمؑ
سوال:حضرت محمدﷺ    کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیمؑ کے کس بیٹے کے توسط سے ملتا ہے؟
جواب:حضرت اسماعیلؑ
سوال:حضرت اسماعیل کے کتنے فرزند تھے؟
جواب:۱۲
سوال:حضرت اسماعیل کےبیٹوں میں کون حجاز میں آباد ہوا،جن کا سلسلہ نسب حضرت محمدﷺ   سے ملتا ہے؟
جواب:قیدار
سوال:آنحضرتﷺ   کے آبا و اجداد میں ایک شخصیت کو ان کی بہادری کی وجہ سے‘‘قریش’’ کا لقب ملا اور قبیلہ بنو قریش کی بنیاد پڑی ان بزرگ ہستی کا نام بتایے؟
جواب:فہر
سوال:آنحضرتﷺ   کے پردادا  ہاشم کا اصل نام کیا تھا؟
جواب:عمرو
سوال:آپﷺ   کی پردادی کا نام کیا ہے ؟
جواب:سلمیٰ
سوال:حضوراکرمﷺ کے دادا کا کیا نام تھا؟
جواب:عبدالمطلب
سوال:آپﷺ کے دادا کا اصلی نام کیا تھا؟
جواب:عامر
سوال:آپ کے دادا کس لقب سے مشہور تھے؟
جواب: شیبہ
سوال:آپﷺ کے دادا کے زمانے میں کون سا مشہور واقعہ ظہور پذیر ہوا جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے؟
جواب:واقعۂ فیل
سوال:آپﷺ کے دادا کے زمانے میں کس ملک کے بادشاہ نے کعبہ کو ڈھانے کا ارادہ کیا تھا؟
جواب:یمن کا بادشاہ ابرہہ
سوال:حضور اکرمﷺ کے والدمحترم  کا نام کیا تھا؟
جواب:عبداللہ
سوال:آنحضرتﷺ کی ولادتِ سعیدوالد محترم کی وفات کے کتنے عرصہ بعد ہوئی؟
جواب:چھ ماہ بعد
سوال:حضرت عبداللہ نے کتنے برس کی عمر میں وفات پائی؟
جواب:پچیس/۲۵سال
سوال:آنحضرتﷺ کی دادای کا کیا نام تھا؟
جواب: فاطمہ بنت عمر
سوال: آنحضرت ﷺ   کے دادا عبدالمطلب کی کنیت کیا تھی؟
جواب:ابوالحارث
سوال: آنحضرتﷺ کے نانا کا کیا نام تھا؟
جواب:وہب بن عبدالمناف
سوال:آنحضرتﷺ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال کہاں پر ہوا؟
جواب:مدینہ
سوال: کس قبیلہ نے چاہ زم زم بند کرادیا تھا ؟
جواب:قبیلہ بنو جرہم
سوال:کس قبیلہ کے سردار نےزم زم کو دوبارہ تلاش کرواکر کے صاف کروادیا؟
جواب:قبیلہ قریش کے سردار عبدالمطلب نے
سوال:آنحضرت ﷺ   کے والد اور آپﷺ کی والدہ کا نسب کس پر جاکر ملتا ہے؟
جواب: کلاب پر
سوال:آنحضرت ﷺ کے ایک جد امجد اپنے بلند مرتبہ اور بزرگی کی وجہ سے عمرالعلاء کے لقب سے مشہور ہوئے نام بتایے؟
جواب: ہاشم
سوال:آنحضرت ﷺ کی نانی کا اسم گرامی کیا تھا؟
جواب:برہ  بنت عبدالعزٰی
سوال:آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کو کہاں دفن کیا گیا؟
جواب:حجون کے مقام پر(مکہ معظمہ میں)
سوال:حضرت عبداللہ شام کے سفر سے مدینہ میں ایک کاروبار کی وجہ سےٹھہرے اور بیمار ہوکر وفات پاگئے وہ کس کاروبار کے سلسلہ میں مدینہ میں ٹھہرے تھے؟
جواب:کھجوروں کے کاروبار کے سلسلہ میں
سوال:آپﷺ کی والدہ کا تعلق کس خاندان سے تھا؟
جواب:بنو زہرہ
سوال:آنحضرتﷺ کا تعلق قریش کے کس سلسلہ سے تھا؟
جواب:بنو ہاشم
سوال:آنحضرتﷺ کے کتنے چچا مسلمان ہوئے؟
جواب: دو،حضرت حمزہؓ،حضرت عباسؓ
سوال:آنحضرتﷺ کے اس چچا کا نام بتایے جو اسلام لائے اور آنحضرتﷺ کے بعد وفات پائے؟
جواب:حضرت عباس
سوال:آپﷺکے چچا حضرت عباسؓ کی کنیت کیا تھی؟
جواب :ابوالفضل
سوال:آپﷺکے چچا حضرت ابوطالب نے کتنی عمر میں وفات پائی؟
جواب:اسّی سال
سوال:آپﷺکی اس چچی کا نام بتایے جو آپﷺکی راہوں میں کانٹے بچھایا کرتی تھی؟
جواب:ام جمیل
سوال:آنحضرتﷺ کی اس پھوپی کا نام بتایے جو آنحضرتﷺ کی زوجہ حضرت خدیجہؓ کی بھابی تھیں؟
جواب:حضرت صفیہؓ
سوال:آنحضرتﷺ کی اس پھوپی کا نام بتایے جنہوں نے غزوۂ خندق میں ایک یہودی کو قتل کیا تھا؟
جواب:حضرت صفیہؓ
سوال:آنحضرتﷺ کی والدہ کہاں پیدا ہوئیں؟
جواب:مکہ مکرمہ میں
سوال:آپﷺ کی والدہ حضرت آمنہ کا انتقال کہاں ہوا  اور کہاں دفن ہوئیں؟
جواب:ابواء
سوال:آپﷺکے والدحضرت عبداللہ کا انتقال شادی کے کتنے ماہ بعد ہوا؟
جواب:تین ماہ بعد

Flickr